
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 5 - Jul 10
For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15
Description
سوچ زار | Soch Zar2019 (Leisure) .
سوچ زار‘ مریم مجید ڈار کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ اِن سے ابتدائی تعارف پچھلے سال ایک آن لائن ویب سائٹ پر ان کا افسانہ ”حرامی“ پڑھ کر ہوا تھا۔ اس کہانی کی فضا میں ایک گھٹن تھی۔ جوں جوں کہانی اختتام کی طرف بڑھتی ہے قاری پر طاری وحشت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہ کہانی کچھ اس انداز میں اختتام کی طرف بڑھتی ہے جو اس کی فضا کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
”آوارہ کتا جو بہت دیر سے کچرے میں کھانا تلاش کر رہا تھا۔ خون کی بو پا کر تھوتھنی ہوا میں اٹھاتا، سونگھتا ہوا دھجی تک آن پہنچا۔ بھوک سے بے تاب کتے نے جلد ہی ناخنوں اور پنجوں کی مدد سے نرم گوشت کے اس حرامی ٹکڑے کو چیڑ پھاڑ دیا“۔ اس کے بعد ایک دو مزید افسانے پڑھے تو احساس ہوا کہ افسانہ نگار اپنی کہانی کہنے اور اپنے اسلوب کے ذریعے ایک منفرد فضا قائم کرنے کی مہارت رکھتی ہیں۔ ہاں لیکن ان کی یہ فضا یک رخی اور مخصوص ہے، جس میں تلخی ہی تلخی ہے۔ سوچ زار 2019 میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعوں میں ایک بہترین اضافہ ہے۔ دو سو اٹھاسی صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مجموعی طور پر ستائیس افسانے موجود ہیں اور اسے ”فکشن ہاؤس“ نے شائع کیا ہے۔
سوچ زار کا پہلا افسانہ مقدمہ ابلیس و آدم و حوا کے نام سے ہے۔ بظاہر یہ افسانہ بارگاہ ربی میں ازل کے سب سے بڑے، سنجیدہ اور ناقابل یقین واقعے کے مقدمے کی روداد ہے۔ یہ ایک ایسے ظلم کی داستان ہے جو بظاہر اس سے پہلے کسی مخلوق نے اپنی جان پر نہیں کیا تھا۔ لیکن جس طرح یہ واقعہ مٹی سے بنی مخلوق کے ہمہ جہت رنگوں کی بنیاد بنا اسی طرح یہ افسانہ اس افسانوی مجموعے میں آنے والے تمام واقعات و حوادث کی پیشگی اطلاع دیتا ہے۔ یہ افسانہ آدم و حوا اور ابلیس کی اس تکون کی داستان ہے جو اس دنیا میں ہونے والے حادثات کو مکمل کرتی ہے۔ خلیفہ ربی اور اس کی پسلی سے پیدا کی گئی حوا جب تک جنت میں رہے وہ ہر جگہ ایک ساتھ تھے۔ لیکن بارگاہ رب میں پیش کیے گئے اس مقدمے کے دوران آدم اور حوا کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔ ان کی یکتائی اب دوئی میں بدل گئی تھی۔ اب انہیں ایک فریق نہیں بلکہ الگ الگ فریق کے طور پر اپنا موقف بارگاہ رب میں پیش کرنے کا حکم ملا۔ جس طرح بارگاہ رب میں ہوئے اس مقدمے کے دوران حوا نے اپنے تجسس کے ہاتھوں عزازیل کے فریب میں آنے کا اعتراف کیا اور جس طرح عزازیل نے آدم کے ہاتھوں ہوئی تذلیل کا بدلہ حوا کے تجسس کو جلا دے کر لیا تھا۔ اسی طرح بنت حوا کے ساتھ روا رکھے جانے والا فریب اور تذلیل کو جابجا ان افسانوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ان افسانوں کے کردار ابن آدم کی ازلی معصومیت اور بنت آدم کی متجسسانہ فطرت کے ساتھ ساتھ شیطانی وسوسوں کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔ان کرداروں کے رویے، کارنامے، خیالات اور ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنائے گئے ہتھکنڈے کسی فرد واحد کا عمل نہیں بلکہ پورے معاشرتی رویوں کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ جس طرح ویلز نے اپنی شہرہ آفاق نظم ”لیژر“ (Leisure) میں دنیا کے حسین رنگوں بارے کہا ہے کہ ”وی ہیو نو ٹائم ٹو سٹینڈ اینڈ سٹیر“۔ اور جس طرح وہ اس نظم میں دنیا کے خوبصورت رنگوں اور خوشگوار احساسات سے روشناس کرواتا ہے، اسی طرح فاضل افسانہ نگارنے اپنی کہانیوں اور کرداروں کے ذریعے ان پسے ہوئے، افلاس زدہ، کچلے گئے لوگوں کے دکھوں سے ہمیں متعارف کروایا ہے جو ہمارے آس پاس موجود تو ہیں لیکن رک کر انکے بارے جاننے کی ہمیں زندگی کی ہمہ ہمی میں فرصت نہیں ملتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب فاضل افسانہ نگار ہمیں خط غربت سے نیچے رہنے والے ان لوگوں کی زندگیوں کے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہیں تو دراصل وہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہوتی ہیں کہ دیکھو تمہارے قہقہوں، پر آسائش زندگیوں اور ظلم و ستم کا شکار ہوئے غریب پر کیا بیتتی ہے۔ یہ کردار اینٹوں کے بھٹے پر مشقت کرنے والے بکھی اور شوکے، گیلے بستر پر لیٹ کر اپنے بچے کو سوکھے حصے پر ڈال کر اس کی خوراک کے بارے سوچتی نسیم، ماں کی گندی گالیاں کھاتی منی اور کسی ماہر کا شکار ہونے والی بے نام لڑکی کے روپ میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔ ان افسانوں کا ایک وصف اس کا حسن تعمیر ہے۔ افسانہ نگار نے زبان و بیان کے بہترین استعمال سے نہ صرف زندگی کے رنگوں سے کہانی کو پینٹ کیا ہے بلکہ غربت، افلاس، ہوس اور پیچھے چھوٹ جانے والے لوگوں سے پیدا ہونے والی محرومیوں اور تلخیوں سے بھرپور زندگیوں کی یوں منظر کشی کی ہے کہ قاری کہانی میں کھو جا تا ہے۔
”بکھی۔ کچھ تلخ سچ“ تیسرا افسانہ ہے جو کچی بستی میں رہنے والی بکھی کی کہانی ہے۔ بکھی دن کو بھٹے پر کام کرتی ہے تو رات کو اس کی کھولی میں پھیلی تعفن زدہ فضا شوکے جیسے کچی بستی کے دیگر مزدوروں کے جسمانی تناؤ کو پرسکون کرنے کا مرکز بن جاتی ہے۔ یہ افسانہ بھٹہ مزدوروں کے تلخ شب و روز کو اجاگر کرتا ہے۔ افسانہ نگار نے بکھی اور اس کی جھونپڑی کو جنسی آلہ کار بنا کر پیش کیا ہے۔ افسانے میں بکھی کا تعارف ان لفظوں میں کروایا گیا ہے ” بکھی بھی اسی بھٹہ بستی کا حصہ تھی۔۔۔ کالی سیاہ۔۔۔ مانو کالی کا روپ۔۔۔۔بڑی بڑی کوری آنکھیں، اینٹوں کی تگاری مسلسل سر پہ اٹھانے سے اندر کو دھنستا ماتھا اور مکرانی کنڈل والے چڑے کے گھونسلے سے بال۔۔۔۔ مگر اس کے کالے سیاہ جسم سے جنسی وحشت ایسے بہتی تھی جیسے صحرا میں چشمہ ابلتا ہے۔۔ ناک میں تانبے کا بڑا سا بلاق پہنے، لنگی میں کسا بدن اور جب وہ اینٹیں ڈھوتی تھی تو اس کے کولہوں کی اٹھتی گرتی حرکت کو کم ہی سہار پاتے۔۔۔ آدھوں کے منہ سے رال بہ رہی ہوتی اور کئی اپنی لنگی بھینچ کے رہ جاتے“۔
ایسی تگڑی کاٹھی والی عورت ہی بھٹہ مزدوروں کا بار سہنے کی ہمت رکھتی تھی لیکن شراب کے نشے میں دھت چار پانچ امیرزادوں کا بار سہارنا اس کے لیے ممکن نہ رہا۔ کچی کھولی سے ایک این جی او والے صاحب کے بنگلے تک کا سفر کرنے والی بکھی کی زندگی میں کوئی بدلاؤ نہیں آتا۔ ان بھٹہ بستیوں میں پھیلی این جی او مافیا اور روزانہ کی روٹی کمانے والے بھٹہ مزدوروں کی سوچ اور زندگیوں میں تفاوت افسانے کو مزید گہرا بناتی ہے۔ پورے افسانے میں بکھی تو ہمارے سامنے کم عرصے کے لیے آتی ہے لیکن بکھی اور اس جیسے تمام بھٹہ مزدوروں کی زندگیوں میں ہر سو پھیلی غربت اور بے بسی سے پیدا ہونے والی تلخیوں کو ہم پورے افسانے میں دیکھ سکتے ہیں-
افسانہ ”حرامی“ محبت کا شکار بنی ہزاروں لڑکیوں کی داستان ہے لیکن افسانہ نگار نے جس طرح اس افسانے کا اختتام کیا ہے وہ نہ صرف منفرد ہے بلکہ قاری کو اختتام پر پہنچتے جھنجھوڑ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک محفوظ سمجھے جانے والے ہوٹل میں ساتھ والے کیبن سے آتی سسکاریوں کی آواز کے بہروپ میں عزازیل کا پھیلایا جال، محبت کی شکار بنت حوا کے تجسس کو جلا بخشتا ہے۔ اس تجسس کی اصلیت جاننے کے لیے بنت حوا ایک ماہر شکاری کا شکار تو ہو جاتی ہے لیکن ممنوع پھل کو چکھنے کی جس سزا سے وہ گزرتی ہے، وہ سزا صدیوں پہلے دی گئی اس سزا کی مانند ہے جو حوا کو دی جاتی ہے۔ جس طرح حوا کو جنت سے محروم کر دیا گیا تھا ویسے ہی بنت حوا کے قدموں تلے بنی جنت سے اس کو محروم کرنے کی داستان ایک سوگوار فضا بنا دیتی ہے۔ اس کہانی کا اختتام ایک بنت حوا کے لیے ایک تنبیہ لیے ہوئے ہے۔ ” عین اس لمحے جب کتا اس کے نومولود کا نرخرہ چبا رہا تھا، ماہر حرف ساز اپنے آرام دہ کمرے کی نیم تاریکی میں فون کان سے لگائے اپنی نئی محبوبہ کو سسکیوں والے ریستوران میں ملنے کے لیے رضا مند کر رہا تھا“۔ گو آدم نے سزا ملنے کے بعد بھی حوا کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا لیکن آج کی دنیا میں اجتماعی غلطیوں کی سزائیں اور تکلیفیں زیادہ تر بنت حوا کو بھگتنی ہوتی ہیں جبکہ ابن آدم ماہر حرف ساز کی طرح لذت حاصل کرنے کے بعد خاموشی سے اپنا راستہ بدل کر کسی اور کی زندگی تباہ کرنے چل پڑتا ہے۔
آٹھویں افسانے کا نام ”پرایا ہاتھ“ ہے۔ افسانہ نگار نے اس افسانے میں ہیت اور تکنیک کے حوالے سے نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس افسانے کا مرکزی کردار ایک مردانہ ہاتھ کو بنایا گیا ہے۔ وہ ہاتھ جو موقع کی تلاش میں ہوتا ہے کہ کس طرح ایک عورت کو چھو سکے۔ وہ ہاتھ جب کسی سیکریٹری کے بدن کو چھوتے ہوئے نئے راز تلاش کر رہا ہوتا ہے تو اس میں قدرے بے باکی دیکھنے کو ملتی ہے، وہ ہاتھ جب ساتھ کام کرنے والی جونیر کی کمر کے گرد گھومنے لگتا ہے تو اس کی پیش قدمی جھجھک اور ڈر سے لبریز ہوتی ہے اور یہ ہاتھ اس قدر بے باک ہوتا ہے کہ اپنی مالکن کا بھی لحاظ نہیں کرتا۔ ہاتھ کا یہ تمثیلی استعمال افسانے کو دلچسپ بناتا ہے۔ اس افسانے میں کیا گیا تجربہ مزید گہرا اور وسیع ہو سکتا تھا لیکن یوں محسوس ہوا جیسے افسانہ نگار افسانے کے مرکزی کردار کی طرح اسے ختم کرنے کی جلدی میں تھیں۔
بھوک اس دنیا پر بسنے والی جانداروں کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پاپی پیٹ کی بھوک کو مٹانے کی خواہش انسان کو کس طرح بے بس، وحشی، بے حس اور مجبور کر دیتی ہے وہ بعض افسانوں میں بہت نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ افسانہ” پیٹ“ ایسی ہی غریب اور بے بس ماں کی داستان ہے۔ ماں جو اپنی اولاد کو گرمی اور حبس سے تڑپتی اور ٹھٹھرتی سردیوں میں مرتے نہیں دیکھ سکتی۔ اپنے بچوں کے لیے سڑک پار ایک کچی جھونپڑی ڈالنے کے لیے جس طرح کی محنت وہ کرتی ہے وہ ایک ماں کے ہی شایان شان ہے۔ بھوک اور غربت کی وجہ سے پیدا ہوئی بے بسی افسانہ ”لفافے کی موت“ میں پہنچ کر سفاکیت میں بدل جاتی ہے۔ یہی غربت اور بےبسی افسانہ ” اپنا اپنا جہنم“ میں آ کر اس بے حسی میں بدل جاتی ہے۔ سلطان کے ساتھ بیتا حادثہ ہمارے اجتماعی شعور پر ایک زبردست چوٹ ہے۔ سلطان جیسا محنت کر کے عزت سے جینے والا شخص بس اپنی غربت کی وجہ سے لوگوں کی ہوس کا نشانہ بن گیا۔ افسانہ ”حرامی“ انسانوں کے ساتھ ساتھ حیوانوں کی بھوک کے اندھے پن کو ظاہر کرتا ہے۔
اس افسانوی مجموعے میں جہاں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ہر پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی زندگیوں کی پریشانیاں، غم، بھوک، درد اور تلخیاں بیان کی گئی ہیں، وہاں اس طبقے کی ہمت اور سفاکیت کی ظالمانہ حد کو بہت مہارت سے دکھایا گیا ہے۔ اپنے حرامی نومولود نواسے کے ناک پر ہاتھ رکھ کر قتل کرتی ہوئی نانی اور اپنے معذور بھائی کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر شہہ رگ پر زنگ آلود قینچی پھیرتا بڑا بھائی نہ صرف سفاکیت کی انتہا پر ہوتا ہے بلکہ اس کی بے بسی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ افسانے اس معاشرے کی فرسودہ اقدار، ظالمانہ روایات اور دوسروں کی زندگیوں کو اپنی لذت کی خاطر تباہ کرنے والوں کے خلاف ایک زبردست مقدمہ پیش کرتے ہیں۔ ان افسانوں میں عورت کے درد کو اس قدر گہرائی سے دکھایا گیا ہے کہ زیادہ تر افسانے نسائی نقطہ نظر سے لکھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ افسانے بھوک، غربت اور بے بسی کے رنگوں میں رنگ کر ایک بوجھل، تعفن زدہ اور سوگوار فضا پیدا کر دیتے ہیں۔ اسی لیے وہ قاری جو خوبصورت انجام اور خوشگوار واقعات پر مشتمل کہانیاں پڑھنے کے متمنی ہیں، ان کے لیے پیش لفظ میں انتباہ ہے کہ وہ ان افسانوں سے دور رہیں کیونکہ انہیں مایوسی ہوگ.
Shipping Notes
- Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
- Except Preorder products are shipped in 48 hours.
- Delivery to the USA:
- Standard Shipping : 3-10 business days
- If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
- We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
- Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
- To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
- Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
4.7 ★★★★★
Based on 2465 reviews
Sort
Product Reviews
★★★★★ 5
One of the best mice I've ever owned
Color: Black, Style: Wireless, Pattern Name: Mouse
I was a little skeptical about this mouse but after 3 weeks of use it's continued to be my favorite mouse. Not only does it. Have a good feel. It is very durable and customizing. The weight is fantastic. If you get the charging pad it just glides. But is definitely worth its money
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 19, 2026
★★★★★ 5
Impressive and Comfortable
Color: Black, Style: Wireless, Pattern Name: Mouse
Only after a couple play sessions in BF6 with this mouse, I can already feel how much more precise I can be with it. My first play session was a bit rough getting used to the feel of it. It’s quickly getting more natural. I switched from a ghost keyboards m1 mouse to this.
The left and right mouse clicks feel a bit more stiff than my m1 mouse which I like. Easier to avoid accidental inputs. All the other buttons feel solid with clean clicks.
The mouse wheel is a very different feel with more significant bumps while scrolling, but it adds a more tactile feel being easier to control. It also has a release that lets it just spin for probably more work type use rather than gaming.
It’s easy to setup, basically plug and play but a bit confusing. It comes with of course, a charging cable but the Bluetooth usb comes in some sort of housing that plugs in by the charging cable. Not sure if that is better or worse than how I have it now which is the usb receiver plugged into the back of my pc. Works fine.
Looking at the Logitech website shows up to 48 hours of battery life with default lighting, or up to 60 hours with no lighting. Fully charged it showed 26 hours (25 hours now at 96%). And turning off the lighting at 96% only goes up to 28 hours. Which is plenty as I usually plug my wireless device in to charge after use.
My favorite part of this mouse is how comfortable it is. It’s a bit thicker filling in my smaller hands more compared to my m1 mouse. Another nice added comfort feature is the thumb ledge. It keeps my thumb off my mouse pad, and helps with control of the mouse in high stress fps situations. The weight also help in precise aiming. My m1 mouse was 65g , the g502 is 111g plus the 1 big weight and 2 smaller weights I added making it go up to maybe 119g.
Highly recommend this mouse, and will try to update if it fails prematurely.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on November 22, 2025
★★★★★ 5
It's just a Proteus Core, but wireless. Wait... it's a PROTEUS CORE, but WIRELESS!!!
Color: Black, Style: Wireless, Pattern Name: Mouse
I've been using a Logitech G502 Proteus Core for a couple of years, and I've been wanting a wireless mouse for ages however, I had been hesitant to switch to anything else because I loved that G502 Proteus Core.
Then, this mouse came out. I knew it was time to upgrade. I get a mouse that looks, feels and performs identically to my Proteus Core. No, scratch that, BETTER than my Proteus Core. Except now no more wire wrangling. No more wire catching on the edge of a table or needing to tape it down. Except the sensor is faster and better than my G502PC, and the wireless mouse is somehow LIGHTER than the wired version. What kind of space age magic is this!?
When I got it at first, I was actually a little disappointed. I had been excited for this new, fancy mouse that was going to step my game up. But then I got it and it just felt exactly like my old one. It felt like nothing has changed. The wait to use it came to a somewhat anticlimactic end.
But then I thought about it and realized..... IT FEELS EXACTLY LIKE MY OLD ONE. I got literally exactly what I loved before, but this time with RGB lighting and no cord! What had I expected? I got literally exactly what I wanted, and it felt like home.
And the battery life, of my goodness, the battery life. I've been using this mouse since mid Early/mid-May. I probably use my mouse for about 1 to 4 hours a day, sometimes every other day depending on schedule. I charged this mouse to 100% on my first day of ownership. I haven't charged it since, and my battery currently reads 64%. Incredible. Over a month of regular and consistent use, with lighting on (at about 60-75% brightness, purple) and I haven't even gotten it to half charge. That tells me I've probably got another month or so of battery life to go!
I have been BEYOND satisfied with this mouse. I only had one minor hiccup. Initially I put the wireless receiver in the rear of the tower, straight into the motherboard's primary USB 3 port. Unfortunately, I noticed that I would get occasional stuttering and hitching with the mouse cursor. After a bit I noticed that it only happened when my cell phone was on my computer desk in front of my mousepad. I relocated the receiver to the USB3 slot on my Corsair K60 keyboard, problem solved. I haven't had one stutter or hitch since. I think my cell phone's WiFi signal was causing some form of interference. I could reproduce the problem with my cell phone location every time, so I'm confident in what the issue was.
BEYOND satisfied with this product. If you have ever used any of the Logitech G502 line - or mice of a similar shape - this product is an absolute NO BRAINER purchase.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 13, 2020
★★★★★ 4
It's a good product but not quite a grand slam..
Color: Black, Style: Wireless, Pattern Name: Mouse
I've tried 15+ different mice in the last few years. It would be a bigger number if I wanted to collect them, but I mainly just try to buy the best small to medium-ish ultralight mice in search of my endgame. Won't buy a mouse without seeing reviews first anymore. However, I did main the old wired G502 for a long time before I became a snob. I still like the G502 shape, scroll wheel, and button layout very much despite the fact that it's not going to help me get high scores in aim trainers. The disadvantages caused by the weight and shape are somewhat, but not totally, made up for by the added functionality of the extra buttons, which are also fantastic for productivity. This is an overall solid product with only a few minor flaws that kept me from giving it a perfect score.
The good:
1. Weight is noticeably reduced compared to the wired version.
2. The button layout every G502 fan fawns over is now on a wireless mouse. And it's genuinely a great button layout.
3. It's wireless, obviously.
4. Top-tier sensor.
5. Excellent battery life.
6. Infinite scroll wheel go brrrrr
The bad:
1. Standard black teflon mouse feet. Not the worst I've seen, but Logitech does have a reputation for putting sh*tty feet on great mice. They at least improved this on the Superlight, but even those were still too thin. These aren't bad, but they could be better.
2. Click feel is substantially worse compared to the old G502. Switches are clearly not the same. Honestly would've been tempted to give this mouse 5 stars if it weren't for the clicks. They aren't heavy and ultra tactile like they were before. They're light and standard-feeling now, which isn't a deal-breaker by any stretch, but it's disappointing.
3. Price. You have to get this thing for less than $100 or it simply isn't worth it. It's a step up from the wired G502 but not to the point of it being worth 3 times as much. Even at a $95 sale price, that's still pushing it.
Summary: you're sacrificing click feel and money to improve weight, obtain a nicer scroll wheel, and rid yourself of the atrocity that is the original G502 cable. You're also getting great battery life and excellent, low-latency wireless tech. It's a good mouse, but it's hard to say it's worth triple the amount of its predecessor, especially if you can replace mouse cables. Do not pay more than $100 for this mouse.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on July 13, 2021
★★★★★ 5
The best mouse is the best mouse
Color: Black, Style: Wireless, Pattern Name: Mouse
I've used the wired in the past and it was my favorite mouse and after using an ASUS wireless mouse for the last 2 years I decided to go back to the Logi G502 only the wireless version this time. Connectivity is great. Disappointed that it doesn't use USB-C to charge the mouse itself, but whatever. This thing is so great and more comfortable than the last mouse I was using. That's a win
All I'm saying is it's great to have this mouse again because it's hard to argue that this is the best mouse for gaming. I can't comment on battery life as I just received it but from the rest of the reviews, its has great battery life.
But upon immediate use, I just can't recommend this mouse enough!!!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on March 22, 2026